ابنا: اگرچہ لیبیا کے حکام نے حالیہ برسوں میں اس ملک میں کودتا سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے تاہم قرائن و شواہد سے اس امرکی نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ ملک شدید بحران سے دوچار ہے ۔ ایک ایسا بحران کہ جس کا محور فی الحال خلیفہ حفتر ہے ۔ القدس العربی جریدہ لکھتا ہےکہ لیبیا کی فوج نے ایک بیان جاری کرکے میجر جنرل خلیفہ حفتر سے مطالبہ کیا ہے کہ کسی خونریزی سے قبل وہ خود کو سرکاری فوج کے حوالے کردے ۔ میجر جنرل حفتر ، لیبیا ميں بااثر فوجی ہیں کہ جنہوں نے حالیہ برسوں میں ایک بیان جاری کرکے حکومت اور پارلیمنٹ کو تحلیل کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ حفتر نے اپنے وفادار فوجیوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ پورے طرابلس ميں پھیل جائیں اور دارالحکومت کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیں ۔ اگرچہ لیبیا کے بعض سیاسی گروہ ، حفتر کے بیان کو کودتا کا مصداق قرار دے رہے ہيں لیکن خود حفتر نے ایک بیان ميں کسی بھی قسم کے کودتا کے مسئلے کو مسترد کرتے ہوئے اپنے موقف کو ایک اصلاح پسند اقدام قرار دیا ہے ۔ لیبیا کے وزیر اعظم ، علی زیدان، کی حکومت نے بھی اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ حالات پر فوج کا کنٹرول ہے ، یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ملک کے حالات معمول پر ہیں۔ لیکن طرابلس حکومت کی جانب سے ، کودتا کے خوف سے تیس سے زائد افراد کی گرفتاری کا حکم جاری کرنے سے اس مسئلے کی تائید ہوجاتی ہے کہ لیبیا میں فوج کے ہاتھوں خاموش بغاوت کرنے کا جوخطرہ موجود تھا وہ فی الحال تو ٹل گيا ہے لیکن ابھی بھی خطرہ منڈلا رہا ہے ۔
.......
/169